آئین شریعت کے مطابق بنا، اس سے ہٹ کر مذاکرات کا کہنے والے باغی ہیں: مذہبی، سیاسی رہنما

لاہور + اسلام آباد (اے پی اے + این این آئی)  سابق خطیب لال مسجد  مولانا عبدالعزیز کی پریس کانفرنس کے حوالے سے سیاسی رہنمائوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی ترجمان جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز اب صرف لال مسجد کے خطیب نہیں بلکہ وہ طالبان ثالثی کمیٹی کے اہم رہنما ہیں اس لئے انہیں ذاتی حیثیت سے اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہئیں اور مذاکراتی عمل میں رہ کر بات کرنا چاہیے۔ انہوں کے کہاکہ اس طرح کا مطالبہ غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے کہ اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے ورنہ مذاکرات سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان پر جید علماء کے دستخط ہیں اور اسے مکمل شریعت کے مطابق بنایا گیا تھا اگر کسی کو اختلاف رائے ہے تو معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل میں اٹھایا جائے۔ مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہاکہ تحریک طالبان یا ان کے نمائندوں کی جانب سے قرآن پاک یا سنت رسولؐ کے دائر ے کے اندر مذاکرات کی بات فی الوقت سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ ایک طرف وہ بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں جبکہ اسلام کسی بھی شخص کو بے گناہ قتل کرنے پر پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ماضی کی طرح اب بھی شرپسند عناصر قرآن پاک کے نام پر اپنی مرضی عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں بتایا جائے کہ بچیوں کو تعلیم سے روکنا، ڈرا دھمکا کر اپنے نظریات مسلط کرنا کون سی شریعت ہے۔ سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ تحریک طالبان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ غیر شرعی ہے ہزاروں لوگوںکے اعلانیہ قاتلوں کو رہا کیا گیا تو دہشت گردی مزید بڑھے گی جو آئین پاکستان سے ہٹ کر مذاکرات کی بات کر رہے ہیں وہ باغی ہیں ایسے لوگوں کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت بغاوت کا مقدمہ درج کیا جائے۔  سنی اتحاد کونسل پاکستان نے کہا ہے کہ طالبان شریعت کے حامی نہیں باغی ہیں، طالبانی شریعت قرآن و سنّت سے متصادم ہے۔ نفاذِ شریعت کے لیے بندوق کا استعمال خلافِ شریعت ہے اور علمائے اہلسنّت طالبان کے گمراہ کن فلسفہ ٔ شریعت کو مسترد کرتے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے رہنمائوں علامہ شریف رضوی، طارق محبوب، پیر اقبال شاہ، مفتی سعید رضوی، صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی اور دیگر نے لاہور میں جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ 1973کے آئین کو غیراسلامی کہنا گمراہی ہے۔ دہشت گردوں کی رہائی خلافِ آئین اور خلافِ شریعت ہو گی۔ پچاس ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں کی رہائی کا مطالبہ غیرشرعی ہے۔ مساجد، مدارس، مزارات اور سکیورٹی فورسز پر حملے کون سی شریعت ہیں۔ شریعت کے باغی شریعت کے ٹھیکیدار نہ بنیں۔