مذاکرات میں عدم شمولیت سے متعلق فوج کا فیصلہ لائق تحسین ہے: منظور وٹو

لاہور(خبر نگار) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر منظور احمد وٹو نے فوج کی  مذاکرات میں شمولیت سے معذوری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فوج تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں کیسے شامل ہو سکتی ہے جنکے ہاتھ تقریباً 50ہزار سے زائد پاکستانیوں اور تقریباً 5ہزار فوجیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان کا مذاکرات میں فوج کی شمولیت کا مطالبہ ایک خطرناک سازش ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ جمہوری حکومت مذاکرات کے متوقع فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔طالبان کا یہ مطالبہ حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کی بھی منفی انداز میں عکاسی کرتا ہے جس سے وہ فوج اور حکومت دونوں کو نیچا دکھانے کے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔میاں منظور احمد وٹو نے حکومت کو خبر دار کیا کہ وہ فوج کو مذاکرات میں اس وجہ سے بھی شامل نہ کرے کیونکہ اگر مذاکرات نا کام ہوتے ہیں تو حکومت اور فوج ایک دوسرے کو اس ناکامی کا موردِ الزام ٹھہرائیں گے جس سے طالبان کو بے پناہ سیاسی اور وقتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔