خواتین کو تعلیم اورترقی کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں، مجاہد کامران

لاہور (سٹاف رپورٹر)وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ طالبات کی تعداد لڑکوں سے بڑھ چکی ہے اور رواں سال میں پچاس فیصد سے زائد طالبات کے داخلے ہوئے ہیں وہ انٹرنیشنل وومن ڈے پر وائس چانسلر آفس کے باہر آئی مختلف ریلیوں کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ انچارج پرنسپل لاء کالج ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی کی قیادت میں، انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائیکالوجی کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر کی قیادت میں جبکہ شعبہ زوالوجی کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر کی قیادت میں نکالی گئی ریلیاں وائس چانسلر آفس کے باہر اختتام پذیر ہوئیں شعبہ علوم ابلاغیات کی جانب سے آئی بی آئی ٹی تک ریلی نکالی گئی۔ ریلیوں کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں 1100 کے قریب اساتذہ میں چالیس فیصد خواتین ہیں جبکہ لیکچرار کے کیڈر میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ ڈینیز کے عہدوں پر بھی چار خواتین فائز ہیں یونیورسٹی سینڈیکیٹ میں پہلی مرتبہ خاتون لیکچرار ممبر منتخب ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور انتظامی عہدوں پر فائز ہونے کے تمام مواقع ملنے چاہئیں۔ ڈاکٹر شازیہ نورین قریشی نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ فیصلہ سازی میں خواتین کو آزادی ملنی چاہئے۔ انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز کے زیر اہتمام خواتین کی صحت اور درپیش سماجی مسائل پر سیمینار منعقد کئے گئے۔ پاکستان سٹڈی سنٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مسرت عابد کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں خواتین کی سیاسی خود مختاری ‘‘ کے عنوان کے تحت سیمینار منعقد کیا گیا۔ جس سے ڈاکٹر عاصمہ افضل شامی نے خطاب کیا۔
شعبہ تاریخ میں ہونے والے سیمینار سے چئیرمین ڈاکٹر اقبال چاولہ نے خطاب کیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں ’’ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں خواتین کے کردار ‘‘کے موضوع پرسیمینار کی صدارت قائمقام ڈائرکیٹر ڈاکٹر عابد حسین چوہدری نے کی جبکہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر منور مرزا نے خطاب کیا۔ شعبہ علوم اسلامیہ میں ’’عورت کا مقام و مرتبہ تعلیمات قرآن کی روشنی میں ‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا۔ اورینٹل کالج اولڈ کیمپس میں نظمیں پڑھی گئیں۔ شعبہ جینڈر سٹڈیز اور کالج آف ارتھ اینڈ اینوائرمینٹل سائنسز میں بھی طلباء و طالبات نے رنگا رنگ پروگرام میں شمولیت اختیار کی۔