ٹوکیو میں نئی حکومت کی طرف سے پہلی مرتبہ چینی سفیر کی طلبی


ٹوکیو(آن لائن)ٹوکیو نے نئی قوم پرست حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پہلی مرتبہ منگل کے روز چینی سفیر کو طلب کرکے متنازعہ جزائر کے گرد پانیوں میں سرکاری بحری جہازوں کی موجودگی کیخلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے چین کو بتایا ہے کہ وہ جاپان کے زیر کنٹرول جزائر کے سلسلے کے گرد علاقے میں بحری جہاز بھیجنے کا عمل روک دے جنہیں جاپان میں سینکاکو کے نام سے جانا جاتا ہے ، تاہم چین انہیں دیاﺅژوز جزائر کا نام دے کر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔وزارت کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ خارجہ امور کے نائب وزیر ایکی تاکا سائیکی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے (0200GMT) کے قریب چینی سفیر چنگ یونگہوا کے ساتھ ملاقات کی اور پیر کے روز بیجنگ کی جانب سے چار بحری جہاز متنازعہ جزائر میں بھیجنے پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔وزارت نے پیر کے روز ٹیلی فون کے ذریعے چینی سفارت خانے کو احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔منگل کے روز اس قدامت پسند وزیراعظم شینزوایبے کے 26دسمبر کو برسراقتدار آنے کے بعد پہلی مرتبہ چینی سفیر کو طلب کیا ۔وزارت نے آخری مرتبہ 13دسمبر کو چین کے قائمقام سفیر ہان ژی کیانگ کو طلب کیا تھا جب چین نے ایک طیارہ علاقے میں بھیجا تھا جس پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا ۔ اس کے جواب میں جاپان نے اپنے لڑاکا طیارے بھیجے تھے ،1958ءمیں ٹوکیوکی جانب سے فوجی مانیٹرنگ کے آغاز کے بعد سے کہیں بھی کسی بھی مقام پر جاپانی فضائی حدود کی چینی طیارے کی یہ پہلی مرتبہ خلاف ورزی سامنے آئی تھی ۔