وفاقی حکومت نے رواں سال بجٹ میں صرف 3پاور سیکٹر منصوبوں کیلئے فنڈ مختض کئے


اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی حکومت کے توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے اقدامات کے دعوﺅں کے باوجود رواں مالی سال کے بجٹ میں پاور سیکٹر کے 39 منصوبوں میں سے صرف 3 منصوبوں کیلئے فنڈز مختص باقی36 منصوبوں کیلئے بیرونی وسائل پر انحصار‘ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی معطلی کے بعد غیر ملکی مالیاتی اداروں کا پاکستان کو پاور سیکٹر کیلئے قرضے اور فنڈز دینے سے گریز ۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کے مطابق توانائی کے جاری بحران سے ملکی معیشت کو جی ڈی پی کے 2سے 3فیصد سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اس بحران کو حل کرنے کیلئے بلند وبانگ دعوے کررہی ہے‘ تاہم حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ذرائع نے پلاننگ کمشن کی دستاویز کے حوالے سے بتایا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کی معطلی کے باعث پاکستان حکومت کو بیرونی وسائل سے فنڈ نہیں مل رہے جس کے باعث ان منصوبوں پر کام نہیں ہورہا اور ان منصوبوں پر کام بند پڑا ہوا ہے اور توانائی کے جاری بحران کی اس صورتحال میں فوری طور پر حل ہونے کی توقع نہیں ہے۔