کسانوں کے ملک گیر مظاہرے

چوہدری فرحان شوکت ہنجرا
ملک بھر میں گندم کی کٹائی کا مرحلہ آخر ی مراحل میں ہے۔اس مرتبہ تو گوں نا گوں بارشوں اور خراب موسم کی بدولت گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں انتہائی کمی ہوئی ہے جس کی ایک مثال ضلع شیخوپورہ کی تحصیل مرید کے علاقوں کرتو،اور دیگر نواحی دیہاتوں میں 15سے 20من فی ایکڑ گندم حاصل ہوتی ہے اس سے کاشتکاروں کے تو پیداواری لاگت کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوئے۔دوسرا جن کاشتکاروں نے حصے اور ٹھیکے پر زمین لے رکھی تھی ان کی تو دوہری کمر ٹوٹ گئی کہ چاول مونجی کی فصل کی قیمت مناسب ملنے سے پیداواری لاگت پوری نہ ہوئی اب گندم میں پیداواری لاگت پوری نہیں کیونکہ زمین کے مالک کو تو وہ پہلے ہی فی ایکڑ ٹھیکہ کی رقم ادا کرچکا ہے یوں ایک ایکڑ پر خود کاشت کرنے والا کاشتکار 40ہزار اور حصے،ٹھیکے پر لینے والا کاشتکار 80ہزار روپے کا نقصان کروا کر مفلوک الحال ہو چکا ہے۔دوسری طرف ستم ظریفی دیکھئے تو حکومت پاکستان وزیر اعظم پاکستان وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار ،وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے سپر مونجی کاشتکاروں کو فصل کی قیمت مناسب نہ ملنے اور سیلاب سے فصل کی تباہی جیسے عوامل پر 5ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دینے کا اعلان کیا۔اور اس کے بعد قومی اخبارات،ٹی وی چینلز اور چو راہوں پر دیو ہیکل بینرز ،فلکس لگا کر کسانوں کی فلاح و بہبود کی بات کرنے کی تشہیر کی گئی لیکن آج چاول کی بوائی کا دوبارہ وقت آگیا وہ 5ہزار فی ایکڑ کسانوں کو نہیں مل سکے۔اگر ملیں ہیں تو حکومت وضاحت کر دے کیونکہ میرا خود نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ سے تعلق ہے۔کاشتکاری بھی کرتا ہوں حلقہ کے پٹواری نے سروے بھی کیا تھا لیکن ہمیں تو کوئی کال نہیں آئی۔
’’جس دور میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے
پاکستان رائس ملز ایسوسی ایشن اسی طرح ایکسپورٹرز نے حکومت کی توجہ چاہی ہے کہ دھان ملک کی دوسری بڑی زرمبادلہ کمانے والی جنس ہے۔جوکہ وائیٹ گولڈ بھی کہلائی جاتی ہے۔اس وقت لاکھوں بوری سپر کوالٹی چاول گوداموں میں پڑا برباد ہورہا ہے۔رائس ملز اور مختلف بینکوں کا اربوں روپے دریا بر دہونے کا خدشہ ہے ۔ اگر دو سال کی دھان کی فصل کا چاول یونہی گوداموں میں پڑا رہا تو آئندہ سال کسا ن اپنی فصل لیکر دربدرکی ٹھوکریں کھائے گا جس کی ذمہ دار وقت کی حکومت ہوگی۔چند دنوں بعد پنجاب کے اضلاع میں شیخوپورہ ،نارووال ، سیالکوٹ ،گوجرانوالہ ،گجرات منڈی بہاوالدین، حافظ آباد ،جھنگ،چینوٹ،ننکانہ صاحب میں چاول کی کاشت شروع ہونے والی ہے۔لہذا حکومت سے دردمندانہ اپیل ہے کی وہ کاشتکاروں کو 5ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی کی رقم فی الفور ادا کرے تاکہ پریشان حال کاشتکار کچھ نہ کچھ امید کے ساتھ کے اللہ بہتر کرے گا ،کاشت میں لگا رہے اور اسے فصل اونے پونے خریدے جانے کا خوف لا حق نہ ہو ۔ آج ہم سب یہ جانتے ہیں کسان انصاف مانگ رہا ہے۔
ہمیں خوب معلوم ہے کہ ابھی گندم کی خریداری شروع نہیں ہوئی تھی کہ حکومت پنجاب نے میڈیا پر کسانوں سے 40لاکھ میڑک ٹن گندم خریدنے ،باردانہ میرٹ کی میرٹ پر فراہمی ،پٹواری کلچر کے خاتمے ،1300روپے من گندم خریدنے ،مڈل مین کی حوصلہ شکنی کے اعلانات کیے۔ارکان پارلیمنٹ ،سرکاری مشینری کے مرکز خریداری گندم کے دورے لیکن وہ کسانوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حکومت نے اپنے سیاسی ورکروں کو باردانہ کمیٹی کا ممبر بنایا ہے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے۔یہی عناصر پٹواریوں ،گرداوروں سے اپنے من پسند افراد کی فہرستیں بنوا کر ایک ایک فرد کو ہزاروں کی تعداد میں باردانہ دلوارہے ہیںجبکہ چھوٹے کاشتکار اور جنہوں نے بینکوں میں رقم جمع کروا کر باردانہ کے لیے درخواستیں دی ہوئی ہیںان کی باری ہی نہیں آرہی تحصیل دار ،گرداور ، پٹواری پر ارکان اسمبلیوں کا شدید دبائو ہے اور یہ کھلی حقیقی ہے۔
لہٰذا حکومت کسی بھی حکومتی ادارے کے ذریعے چاول کی خریدے اور عالمی منڈیوںمیں فروخت کرکے زرمبادلہ حاصل کرے آخر یہ ایکسپورٹ پروموشن بورڈ کے نام سے ادارہ کس لیے وجود میںآیا ہے۔دوسری جانب کسان بورڈ پنجاب کی اپیل پر پنجاب بھر میں حکومت کی کسان دشمن گندم پالیسی کے خلاف کاشتکاروں نے ضلع، تحصیل، ڈویثرنل، ہیڈکواٹرزاور مرکز خریداری گندم پر احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت کی گندم خریداری پالیسی کی ناکامی کے خلاف نعرے بازی کی۔ چند روز قبل بھی ملتان روڈ پر مختلف شہروں میں کسانوں نے احتجاج کرکے حکومت سے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا ۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جملہ مسائل کے حل کیلئے تمام کاشتکار نمائندہ تنظیموں کا اجلاس بلا کر اور مل بیٹھ کر کاشتکاروں اور صارف کے مفادات کو دیر پا بنیادوں پر تحفظ دے۔ کھاد ، بیج بجلی اور پانی کے نرخوں میں اضافہ واپس لیا جائے ۔ علاوہ ازیں گند م کی خریداری کے لیے باردانہ کی منصفانہ تقسیم کے نظام کو یقینی بنایا جانا بے حد ضروری ہے ۔کسان بورڈ پاکستان کے صدر صادق خان خاکوانی ،سیکرٹری جنرل کسان بورڈ پاکستان ملک رمضان ،صدر پاکستان پنجاب بورڈ خورشید کانجو،جنرل سیکرٹری پنجاب ارسال خان خاکوانی نے کہا کے اگر حکومت نے کاشتکاروں کے جائز مطالبات پورے نہ کیے تو کسان جلد ہی اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے۔