لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا دسمبر 2017ء تک انتظار کرنا ہو گا

راجہ عابدپرویز
حکومت نے وفاقی بجٹ2015-16 میں توانائی کے شعبہ کے لئے 287ارب 23کروڑ روپے مختص کیے ہیں اور دسمبر 2017تک ملک سے لوڈ شیڈنگ مکمل طورپر ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے عام انتخابات میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ اسی وعدہ کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے نہ صرف جاری منصوبوں کے لئے خطیر رقم مختص کی ہے بلکہ نئے منصوبوں کو بھی بجٹ میں شامل کیا ہے۔ مگر کالا باغ ڈیم جوکہ ابتک بننے والے منصوبوں میں سے سب سے بڑا پانی کا منصوبہ تھا جس کا نام تک نہیں لیا گیا۔مسلم لیگ ن کی حکومت جوکہ اس ڈیم کی سب سے بڑی حامی جماعت سمجھی جاتی تھی اس کے سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اسے سیاست کی پھینٹ چڑھا دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت کے لئے ناگزیر اس اہم منصوبے کو شاید اب کوئی یادتک کرنے والا نہیں رہا۔ اس ڈیم کی کمی کو تو پورا نہیں کیا جاسکتا مگر حکومت انرجی کے دیگر ذرائع کو بہتر بنانے کے لئے کوئلے اور ایل این جی کے منصوبے شروع کررہی ہے۔ تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں سستی نہ سہی مگر کسی حد تک سستی بجلی پیدا کی جاسکے۔کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس پر توجہ دی گئی ہے۔ جبکہ ونڈ پاور سے بجلی کے کئی منصوبے پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے لگائے جارہے ہیں۔ ہمارے ملک کا المیہ ہی یہی ہے کہ ہم گیس، فرنس آ ئل اور ڈیزل سے 60فیصد سے زائد بجلی پیداکرتے ہیںجوکہ انتہائی مہنگی ہے۔ جبکہ دنیا میں انرجی مکس اس سے کہیں بہتر اور ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے۔پاکستان میں کوئلے کے ذخائر وسیع پیمانے پر پائے جاتے ہیں مگر افسوس ہم نے اس سے خاطر خوا ہ فائدہ نہیں اٹھایا ۔جس کی وجہ سے آج پاکستان کے عوام توانائی کے شدید بحران میں مبتلا ہیں۔ مہنگی بجلی سے پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ پاکستان کو صرف توانائی کی ضرورت نہیں بلکہ سستی توانائی ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا اور ہماری صنعتی مصنوعات کی تیاری پر زیادہ خرچ آیا تو ہم دیگر ممالک کی تیار کی ہوئی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے اور پھر ہماری مقامی صنعت کبھی نہیں اٹھ سکے گی۔
بجلی کے حصول کے لئے رواں مالی سال کے بجٹ میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لئے 105ارب 37کروڑ روپے مختص کیے گے ہیںجبکہ 4117میگاواٹ صلاحیت کے سرکاری شعبہ کے 6جاری اور 4نئے تھرمل منصوبوں کے لئے 80ارب 20کروڑ روپے مختص کیے گے ہیں۔ بجلی کے سسٹم کو مضبوط بنانے کے لئے نئی ٹرانسمیشن لائنیں اور ہیوی ٹرانسفارمرز کی کی تنصیب کے لئے این ٹی ڈی سی کے 33جاری اور 18نئے منصوبوں کے لئے 65ارب 41کروڑ روپے مختص کیے گے ہیں۔ ان میں سے 45ارب 32کروڑ روپے جاری جبکہ 20ارب روپے نئی سکیموں کے لئے رکھے گے ہیں۔ بجلی کے نظام کو درست کرنے کے لئے نئے گرڈ اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لئے مجموعی طورپر 36ارب 24کروڑ روپے مختص کیے گے ہیں ان میں سے 31ارب جاری جبکہ 5ارب 24کروڑ روپے نئی سکیموں کے لئے رکھے گے ہیں ۔ ملک بھر میں بجلی کی تقسیم پر مامور کمپنیوں کے لئے مجموعی طورپر 71منصوبوں پر رقم خرچ کی جائے گی ۔جن میں 58جاری منصوبے شامل ہیں جبکہ 13 نئے منصوبے بنائے گئے ہیں، ہائیڈل پاور منصوبوں میں بونجی ہائیڈرو پاور کے جاری منصوبے کے لئے 1ارب روپے، دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین کی خریداری کے لئے 10ارب روپے ڈیم کی لاٹ 1تا 5کی تعمیر کے لئے 6ارب روپے ،داسو ہائیڈرو پروجیکٹ 52ارب 36 کروڑ ،ہائیڈرو پاور ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے لئے 37کروڑ،گولان گول ہائیڈرو پاور پروجیکٹ 7ارب 58کروڑ روپے خیال خواڑ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لئے 2ارب 13کروڑ نیلم جہلم ہائیڈرو پاورپروجیکٹ کے لئے 15کروڑ ،منگلا ڈیم کے پاور یونٹس کی اپ گریڈیشن کے لئے 3ارب 39کروڑ ،شائوق ڈیم کی فزیبلٹی سڈی کے لئے 5کروڑ، تربیلا ڈیم کی فورتھ ایکسٹینشن 10ارب 98کروڑ، تھاکوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ 26کروڑ اور وارسک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لئے 7کروڑ روپے مختص کیے گے ہیں جبکہ چترال ہائیڈرو پاوراسٹیشن کے منصوبے کے لئے 1کروڑ روپے رکھے گے ہیں۔ اس کے علاوہ بجٹ میں مشینری کی درآمد پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے جس سے نہ صرف حکومتی سطح کے منصوبوں پر کاسٹ کم آئے گی بلکہ ملک کی صنعت بھی ترقی کرے گی۔بجلی کے منصوبوں پر اگر حکومت قوم سے کیے گے وعدہ کے مطابق سنجیدگی سے کام کرتی رہی تو امید ہے کہ ملک توانائی کے بحران سے جلد نکل جائے گا۔اور کوئلے ،ہوا اور ایل این جی سے چلنے والے بجلی کے پلانٹس سے سستی بجلی عوام کو میسر ہوگی جبکہ پانی کے منصوبوں کی بجلی جب سسٹم میں شامل ہوئی تو عوام بجلی کے بلوں میں ایک بڑا ریلیف محسوس کرے گی۔