خاتون خانہ کو کچن بجٹ میں ریلیف ملا یا گرانی؟؟

عنبرین فاطمہ
حکومتیں ہر سال پورے ملک کا ’’سالانہ بجٹ ‘‘ بناتی ہیںاس بجٹ کے اثرات جتنے مردوں پر مرتب ہوتے ہیں اتنے ہی خواتین پر بھی ،بلکہ یوں کہیے کہ بجٹ کے زیر اثرخواتین زیادہ آتی ہیںکیونکہ انہوں نے قلیل آمدن میں گھرداری چلانی ہوتی ہے۔خواتین بجٹ سازی اور بجٹ بازی کی جتنی ماہر ہوتی ہیں بڑے بڑے ماہرین اور اقتصادیات بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔خواتین کوگھر کے کچن سے گروسری تک کا بجٹ تشکیل دینے کے لئے ایک محدود اور انتہائی قلیل بجٹ میں بڑے اخراجات کا تخمینہ لگانا پڑتا ہے۔ بات کریں 2015سے 2016کے بجٹ کی تویہ پیش کیا جا چکا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) اپنے تیسرے دورہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر تو چکی ہے اب اس میں عام آدمی کو کتنا ریلیف ملا ہے یا خاتون خانہ کے لئے گھریلو اخراجات پر اس کے کیا اثرات ہوں گے اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔اس بجٹ میں مشروبات کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا ہے مشروبات کا استعمال دیکھاجائے تو ایک مخصوص طبقہ زیادہ کرتا ہے لہذا ان کیلئے تو ٹیکس کی ادائیگی کرنا اتنا مشکل نہیں ہوگا ہاں غریب طبقے کو مشروبات پر ٹیکس کی ادائیگی میں یقیناً دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔جہاں تک سرکاری ملازمین کی بات ہے بہت ساری خواتین سرکاری ملازمت کررہی ہیں اور بہت ساری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر سرکاری ملازم ہیں یہ ایسا طبقہ ہے جو مہنگائی یا ٹیکسوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔لیکن اس بجٹ میں ان کی تنخواہوں میں آٹے میں نمک کے برابر اضافہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ پنشنرز کی کی پنشن میں بھی اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ہاں اگر افراط زر اور مہنگائی نہ بڑھے تو اس ساڑھے سات فیصد کے اضافے کے ثمرات مل سکتے ہیں۔مچھلی ،حلال گوشت اور چاول کے ٹیکسوں میں کمی مثبت ہے اس کی بھی وجہ یہ ہے حالیہ برس میں پاکستان میں چاول کی فصل بہت ہی بہتر رہی ہے بلکہ اب بھی ہمارے پاس چاول وافر مقدار میں موجود ہیں اور ایکسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہونے کا بھی اندیشہ بھی موجود ہے۔بجٹ میں ڈیری مصنوعات پر ٹیکس کو پانچ فیصد سے بڑھا کر دس فیصد تک کر دیا گیا ہے اب جتنی بھی برانڈڈ مصنوعات ہیں ان کی قیمتیوں میں ویلیوایڈڈ کی وجہ سے اضافہ کیا جاتا ہے لہذا اس شعبے میں منافع کی شرح کے پیش نظر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے جس کا بوجھ بالآخر صارف پر پڑے گا۔کاسمیٹکس پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن کاسمیٹکس کا استعمال مخصوص طبقہ کرتا ہے غریب آدمی کا مسئلہ دال روٹی ہے کاسمیٹکس کاروٹین سے استعمال جس طبقے میں کیا جاتا ہے انہیں اس پر مزید ٹٓیکس لگنے سے فرق نہیں پڑتا۔ حالیہ مہینوں میںعالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوئی تو اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں کی بھی پٹرول کی قیمتوں میں خاصی کمی دیکھنے میں آئی اور یوں غریب طبقے نے بھی سکھ کا سانس لیا دال چینی،چاول ہر چیز کی قیمت نیچے آئی لیکن چند روز قبل پٹرول کی قیمیتں بڑھا دی گئی ہیں اس کا بھی لا محالہ اثر اشیائے ضروریہ پر دیکھنے کو ملے گا۔یہ تو تھی فیڈرل بجٹ کی صورتحال اب صوبائی بجٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ہر سال ماہ جون میں بجٹ کی تیاریوں کے دوران ماہرین کی طرف سے طرح طرح کے دعوے کئے جاتے ہیں مگر بجٹ بنانے والے اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ ملک کی غریب آبادی زیادہ سے زیادہ جو خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے کی دال روٹی چلانی مشکل ہے ۔ ہر سال بجٹ کے بعد پٹرول ،گھی ،چینی ،دالیں اور آٹے کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دی جاتی ہیں، حالانکہ 1973ء کاآئین شہریوں کو سارے حقوق دینے کی ذمہ دار ریاست کو قرار دیتا ہے ۔آئین میں تعلیم،صحت ،روزگار کے مواقع اور دوسری بنیادی ضروریات مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ریاست کا نظم و نسق چلانے والے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے ہمیشہ ہی قاصر رہے ہیں۔ہر نیا آنے والا بجٹ ہندسوں کا ہیر پھیر ہوتا ہے آٹے اور دال کی قطار میں لگے عوام کے سر سے گزر جاتا ہے ،بجٹ میں محض لفظوں کی لیپا پوتی کر کے معیشت کو نہ تو مضبوط کیاجا سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی سہولت دی جا سکتی ہے۔آج تک تو یہی دیکھا گیا ہے کہ ہمارے ہاں بننے والا ہر بجٹ عوام دوست نہیں خواص دوست بجٹ ہوتا ہے ۔اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کر بھی دی جائے تو ہمارے ملک میں مصنوعی مہنگائی کرنے کی کوشش کرکے غریب طبقے کو پریشان کیا جاتا ہے لیکن اگر اس قسم کی مصنوعی مہنگائی پر حکومت کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوجائے تو کافی حد غریب طبقے کو ریلیف مل سکتا ہے۔