ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس میں اضافہ مسترد

زاہدعلی خان
گزشتہ مالی سال کے ریوائزڈ بجٹ میں دس فیصد اضافہ کے ساتھ 2015-16کا بجٹ وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے 5جون کو پیش کیا۔ یہ بجٹ پاکستان کے اقتصادی ترقی میں کیا رول ادا کرے گا اس کا رزلٹ ایک سال بعد معلوم ہو گا۔ لیکن کچھ صنعتکار، برآمدکنندگان، سیاسی و سماجی شخصیات اسے الفاظ کا گورکھ دھندا کہتے ہیں تو کوئی اسی صنعت وتجارت کیلئے خوش آئندہ قرار دے رہا ہے جبکہ بعض اسے عوام کش اور غریب مکاؤ بجٹ کا نام دے رہے ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ بجٹ عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل کر ملک کو امیر بنانے کا بجٹ ہے۔ 4491ارب روپے کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فضل جیلانی نے کہا کہ بجٹ ایکسپورٹ فرینڈلی نہیں کیونکہ ایکسپورٹرز پر سیلز ٹیکس کو دو فیصد سے بڑھا کر تین فیصد کرنے سے برآمدکنندگان کا کیش فلو مزید خراب ہو گا۔ انہوں نے ایکسپورٹ ری فنانس کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کی ایکسپورٹ بڑھانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سیالکوٹ کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے تاکہ ہم دنیا بھر میں چین ، بھارت اور بنگلہ دیش کا مقابلہ کر سکیں۔ پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین اعجاز اے کھوکھر نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں پچاس فیصد اضافہ ایکسپورٹ دشمنی ہے۔ پہلے ہی سیالکوٹ کے برآمدکنندگان کے سیلز ٹیکس اور کسٹم ریفنڈ میں 15ارب روپے حکومت کے پاس ہیں اور سیلززٹیکس کے حالیہ اضافہ سے سیالکوٹ کے برآمدکنندگان کے 22سے 25ارب روپے حکومت کے پاس چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے جاری مالی سال میں برآمدات میں کمی آئی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ ملک میں زر مبادلہ کمانے والے طبقے کی حوصلہ افزائی کیلئے ای ڈی ایف میں چھ ارب روپے رکھنے کی بجائے اس میں تیس ارب روپے رکھتی۔
معروف صنعتکار رضا بھٹہ نے ٹیکسٹائل کی مشینری کی درآمد پر چھوٹ کے حکومتی اعلان کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس چھوٹ کو دیگر شعبوں تک بڑھایا جائے تاکہ دیگر صنعتی شعبوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی آسکے۔ چیئرمین سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ و سابق صدر چیمبر میاں محمد ریاض نے بجٹ کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھرمیں انفراسٹرکچر بننے ، ایکسپورٹ ری فنانس اور لونگ ٹرم فنانسنگ کے مارک اپ میں کمی سے برآمد کنندگان کا فائدہ ہو گا۔ ممتاز تاجر چوہدری رشید احمد کا کہنا ہے کہ چھوٹے دوکاندار پر اضافی دو فیصد سیلز ٹیکس سے چھوٹے دوکانداروں کی اشیاء مہنگی ہونگی ۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزی ڈاکومنٹڈ اکانومی اچھی چیز ہے لیکن گوشوارے داخل نہ کرنے والوں کیلئے بنک ٹرانزیکشن پر 0.6فیصد ٹیکس کا نفاذ کسی طور بھی درست نہیں ہے ۔ اس طرح لوگ بنکوں میں رقم رکھنے اور بنک کے ذریعے ادئیگیوں سے گریز کریں گے اور اس کی وجہ سے مسائل مزیر بڑھیں گے۔ چھوٹ اور معمولی کاروبار کرنیوالے پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بجٹ کو غریب کش بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ سے مہنگائی کا سیلاب آئے گا۔ جو غریب کو مزید غریب تر بنائے گا۔ بینظیر انکم سپورٹ اور بیت المال کیلئے رقوم میں اضافہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت بھیک لینے والوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ ان رقوم میں اضافہ کرنے کی بجائے یہ سرمایہ صنعت کی فروغ اور تعلیم کے شعبوں پر خرچ کرتی۔