اقتصادی شرح نمو سابقہ اور آئندہ اہداف

احمد جمال نظامی
حکومت کی طرف سے پیش کردہ وفاقی بجٹ برائے مال 2015-16ء کو صنعتی، تجارتی اور زرعی حلقوں کی طرف سے تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ ویسے تو گذشتہ ایک دہائی سے پیش کئے جانے والے ہر بجٹ کی اہمیت و افادیت میں اس بناء پر بہت زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے کہ تقریباً ہر ماہ ایک منی بجٹ پیش کر دیا جاتا ہے۔ پہلے سال میں ایک آدھ مرتبہ بجٹ کے موقع پر بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں وغیرہ میں ردوبدل کیا جاتا تھا لیکن اب ہر ماہ بجٹ آتا ہے اور توانائی ذرائع کی قیمتوں میں اضافے سے ہر بنیادی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ردوبدل ہو جاتا ہے۔ بجٹ کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) کی موجودہ حکومت پر صنعتی اور تجارتی حلقوں کی بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں اور تاحال معاشی و اقتصادی حلقے حکومت کی طرف اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ گویا بجٹ پیش کرنے کے باوجود فنانس بل یا مختلف مراحل کے دوران اسمبلی کے ذریعے اس میں صنعت، تجارت اور زراعت دوست تبدیلیاں مرتب کی جا سکتی ہیں۔ سرکاری ملازمین کی طرف سے بھی بجٹ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا جس کی وجہ سے پیش کردہ بجٹ سے صنعت وتجارت، زراعت اور مزدور پیشہ طبقے کو بھی کوئی خاص اطمینان نہیں مل سکا۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ پیش کردہ بجٹ میں لفظوں کے گورکھ دھندا کی بجائے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے سیدھا سیدھا بجٹ پیش کیا ہے جس سے برملا واضح ہو رہا ہے کہ بجٹ سے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والے شعبہ ٹیکسٹائل اور شعبہ زراعت کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ اسی طرح ان دونوں شعبوں کے علاوہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ملازمین کیلئے بھی کوئی ریلیف یا مراعات نہیں رکھی گئیں۔ تنخواہوں میں ساڑھے 7فیصد اضافے کو سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیموں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رضوان اشرف نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کوئی صنعت دوست بجٹ نہیں ہے یہ صرف بلڈرز اور ٹھیکیداروں کے لئے اچھا بجٹ ہے شعبہ ٹیکسٹائل کے لئے نہیں۔ صوبہ خیبر پی کے کو بہت زیادہ مراعات دی گئیں کاش شعبہ ٹیکسٹائل کو بھی کچھ دیا جاتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ٹیکسٹائل پالیسی کو بجٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے جبکہ سٹرکچرل، ڈیفیشنسی کو دور کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت جی ڈی پی کا ٹارگٹ پورا نہیں کر سکی تھی۔ جب تک حکومت سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی پالیسیاں مرتب نہیں کرے گی بہتری نہیں آ سکے گی۔ بجٹ تقریر میں 2017ء تک لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن کس طرح اہداف حاصل ہوں گے اس بارے میں نہیں بتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے کچھ ریلیف مل رہا ہے لیکن آئندہ اگر برآمدات بڑھانی ہے تو توانائی ذرائع کی قیمتوں کا تعین کون کرے گا۔ رضوان اشرف نے کہا کہ شعبہ ٹیکسٹائل کو درپیش توانائی بحران، توانائی ذرائع کی قیمتوں، امن و عامہ کی ابتر صورتحال، بیروزگاری کے مسائل اور دیگر تمام بحران سے متعلقہ مسائل بدقسمتی سے رواں مالی سال کے دوران بھی نہ صرف جاری رہیں گے بلکہ خدشہ ہے کہ ان میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہو ںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر سال چھ سے سات بلین افراد مارکیٹ میں روزگار کی تلاش میں آتے ہیں لیکن جب تک جی ڈی پی گروتھ ریٹ نہیں بڑھے گا اور پرائیویٹ سیکٹر جو جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے لئے بنیادی کردار ادا کرتا ہے اسے مراعات نہیں دی جاتیں بیروزگاری، افراط زر میں کمی اور جی ڈی پی جیسے اہداف حاصل کر کے ملکی معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک بیشتر ٹیکس اکٹھا کرنے والا ملک ہے۔ یہاں گیارہ کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں بجٹ کے دوران اتنا زیادہ ٹیکس لگانا زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں توانائی شعبے کے لئے مختص کی گئی رقم نامکمل اور ناکافی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ںنے کہا کہ فوڈ اور واٹر سیکورٹی ملکی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے اس مقصد کے لئے بڑے ڈیمز کی تعمیر ازبس ضروری ہے جس کے بغیر فوڈ اور واٹرسیکورٹی کو قابو میں رکھنا ناممکن ہے۔ پانی سے بجلی پیدا کرنا ایک بائے پراڈکٹ ہے مگر واٹر اور فوڈ سیکورٹی کے لئے بڑے آبی ذخائر کی تعمیر وقت کا تقاضا ہے۔
پا کستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات کسی بھی شعبہ کے لئے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور ٹیکسٹائل شعبہ جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے اس میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کا کل حجم ملکی معیشت کی مجموعی برآمدات کا ایک بہت بڑا حصہ ہے مگر افسوس حکومت نے بجٹ کے دوران ٹیکسٹائل برآمدکنندگان کو صرف 64ارب کا ٹیکسٹائل پیکج دیا جو کہ پچھلے سال یعنی گذشتہ بجٹ کے دوران بھی 64ارب روپے کا دیا گیا تھا مگر ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بجٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدکنندگان پہلے سے سیلزٹیکس ریفنڈ کے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں اور پوری دنیا کی طرح پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کو زیرو ریٹڈ کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن حکومت نے زیروریٹڈ کر کے مسابقتی ممالک سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے کی بجائے سیلزٹیکس کی شرح کو 2 سے بڑھا کر 3فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ٹیکسٹائل برآمدات پہلے سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور حکومت کی طرف سے پیش کردہ بجٹ کے باعث رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا اور وائس چیئرمین رضوان ریاض سہگل نے مزید کہا کہ مالی سال2015-16ء کیلئے اعلان کردہ بجٹ میں صنعتی ترقی، تجارت کے فروغ، پیداواری لاگت میں کمی اور عالمی مارکیٹ میںمسابقت کے حصول کیلئے مئوثر اقدامات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات کی ترقی میں حائل چیلنجز کے خاتمہ کیلئے بھی اقدامات نہیں کئے گئے۔بجٹ میں صنعت و تجارت کے فروغ، ٹیکسٹائل کے برآمدی سیکٹر کیلئے زیرو ریٹنگ کی عدم بحالی اور ایکسپورٹرز کے عرصہ دراز سے زیر التوا ری فنڈکلیمز کی ادائیگی کیلئے رقم مختص نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی بھی بجٹ کا بنیادی نقطہ ملک میں دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فوائد کا حصول اور ملکی معیشت کے استحکام و صنعتی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے درست سمت فراہم کرنا ہوتا ہے۔مگر بدقسمتی سے موجودہ بجٹ میں اس بنیادی نقطہ کو پس پشت ڈال کرملکی معیشت میں بنیادی حیثیت کے حامل صنعتی سیکٹر کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت طویل عرصہ سے شدید بحران کا شکار ہے مگر حکومت کی طرف سے بجٹ میںتجارت کے فروغ اور برآمدکنندگان کیلئے کسی قسم کی مراعات کی عدم فراہمی سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو مایوسی ہوئی۔انھوں نے کہا کہ بلند پیداواری لاگت ، فنڈز کی کمی اور توانائی بحران ٹیکسٹائل کی صنعت کے بڑے مسائل ہیں مگر ان کے حل کیلئے کسی قسم کے اقدامات تجویز نہیں کئے گئے۔انھوں نے ٹیکسٹائل کے برآمدی سیکٹر کیلئے زیرو ریٹنگ سیلز ٹیکس کی عدم بحالی پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں برآمدی سیکٹر کو زیرو ریٹنگ کی سہولت میسر ہے مگر یہاں ٹیکس وصولی کے بعد ری فنڈ کا نظام رائج ہونے سے ایکسپورٹرز کے اربوں روپے ری فنڈ نظام میں پھنس چکے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سال کے بجٹ میں ایکسپورٹرز کے تمام ری فنڈ کلیمز کی ستمبر ۴۱۰۲؁ تک ادائیگی کے اعلان پر عمل درآمد نہ ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔انھوں نے سیلز ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد سے 3 فیصد اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے زیرو ریٹنگ نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ٹیکسٹائل کے بیمار یونٹس کی بحالی کیلئے بھی کسی قسم کے فنڈز مختص نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی سے جہاں ایک طرف ٹیکسٹائل برآمدات میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے وہیں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم انھوں نے ایکسپورٹ فنانس اور لانگ ٹرم فنانس پر مارک اپ کی شرح بالترتیب 4.5 فیصد اور 6 فیصد کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔پی ٹی ای اے کے چیئرمین سہیل پاشا نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت طویل عرصہ سے بحران کا شکار ہے۔ ایکسپورٹرز کے اربوں روپے سیلز ٹیکس، کسٹم ری بیٹ، لوکل ٹیکس ڈرابیک اور دیگر ری فنڈزکی مد میں حکومت کی طرف واجب الادا ہیں۔ جسکی وجہ سے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان شدید مالی دشواری کا شکار ہیں ۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں ان ری فنڈ کلیمز کی ادائیگی کیلئے فنڈز مختص نہیں کئے گئے جس کا براہ راست اثر برآمدات پر پڑے گا۔
وائس چیئرمین رضوان ریاض سہگل نے صنعتوں کیلئے گیس کی محدود سپلائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرم موسم کے باوجودصرف ۳۳ فیصد گیس سپلائی سے صنعتی عمل شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ہمیں امید تھی کہ بجٹ میں برآمدی صنعت کو مناسب قیمت پر بلا تعطل گیس فراہمی کے اقدامات تجویز کئے جائیں گے مگر اس اہم مسئلہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے ملکی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور آنیوالے دنوں میںصنعتی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔پی ٹی ای اے نے حکومت سے ملک میں معاشی استحکام کیلئے معیشت کو لاحق تمام مسائل کے فوری حل اور ملکی برآمدات کے تحفظ اور ترقی کیلئے مئوثر اور جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور ملک ترقی کرے ۔ زرعی حلقوں کی طرف سے بھی شدید احتجاج سامنے آ رہا ہے ۔
کسان بورڈکے ضلعی صدر میاںریحان الحق ایڈووکیٹ نے حالیہ بجٹ2015-16کوکسان دشمن بجٹ قراردیتے ہوئے کہاکہ ملکی ترقی اورخوشحالی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے شعبہ زراعت کوکسی قسم کاریلیف نہ دے کرحکومت نے ثابت کردیاہے کہ اسے کسانوں سے کوئی سر وکار نہیں۔وفاقی بجٹ میںبجلی پرسبسڈی نہ دے کرکروڑوںکسانوںکومایوس کیا گیا ہے ۔دنیابھر میں ملکی معیشت کوسہارادینے کیلئے کسانوںکااہم کردارہوتاہے لیکن پاکستان میںزرعی مداخل پرجنرل سیل ٹیکس کے نفاذسے کسان کوٹھوکرمار کر ان کی مشکلات میںاضافہ کیاگیاہے ۔کسانوںکے لئے بجلی کھاد اورڈیزل پرسبسڈی نہ دے کرمعاشی پہیہ روکنے کی کوشش کی گئی ہے اورپانی کی کمی کوپوراکرنے کے لئے بڑے ڈیم کے لئے معمولی رقم رکھ کراپنی ناکام ہوتی حکومت کوبچانے کی کوشش کی گئی ہے۔