آمدن کے بغیر صنعتکاروں سے ٹیکس کا جواز نہیں

چوہدری عمر نواز سرویا
صنعت و تجارت کو پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے جو ٹیکسوں میں مزید اضافہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ وفا قی و صوبائی حکومت صنعتکار طبقے کیلئے آمدن پر ٹیکس اور جوابی مراعات دینے کا ٹھوس اور قابل قبول فارمولا مرتب کر ے تو اس سے سرکاری رینیو مین اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ورنہ آمدن نہیں تو پھر ٹیکس ادا کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا۔ صنعت کار معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس کاحکومت سے مطالبہ رہا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس میں بھاری اضافہ واپس لیا جائے ۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس انڈسٹریز کے نومنتخب صدر فضل جیلانی نے کا کہنا ہے سیالکوٹ ایکسپوٹروں نے پا کستا ن میں ایکسپورٹ کے حوالے سے مثالی خدمات سانجام دی ہیں ۔ سالانہ ایکسپورٹ کی مد میں 1.6 U ڈالر کا بزنس کیا ہے اور سرجیکل آلات کے حوالے سے آ ج بھی سیالکوٹ کو مرکز کی حیثیت حاصل ہے ۔ جہاں 15 ہزار مختلف اقسام کے سرجیکل آلات تیار کئے جا رہے ہیں۔ صنعت کا روں کے مسائل کی جانب حکومت کو توجہ دینا ہو گی پراپرٹی ٹیکس میں بھاری اضافہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اسے فور ی طور پر واپس لینا ہو گا سیالکوٹ چیمبر کو تاجروں کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس میں بھاری اضافہ کی شکایات کا سامنا رہا ہے ہے۔ ٹیکس دینے میں شہر اقبال سب سے آگے ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے پاکستان میں صنعت و تجارت کو پہلے ہی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں یہ ٹیکسوں میں مزید اضافے کی متحمل نہیں ہو سکتی ان صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ شہر اقبال کی بزنس کمیونٹی اپنی مثال آپ ہے۔ اُنہوں نے سمبڑیال میں ائیرپورٹ اور ڈرائی پورٹ جیسے جدید کارنامے سرانجام دے کر بزنس کمیونٹی کے سر فخر سے بلند کئے ہیں۔ یہ کام حکومت کے کرنے والے ہیں لیکن ہم حکومت کے پیش پیش چلتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے ہی گلے دبانے شروع کر دیں۔ ہم صنعت کاروں کے اُوپراضافی ٹیکس لگائے گئے ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔ چیمبر آف کامرس پر تمام بزنس کمیونٹی کو آگاہ کرتا ہے کہ وہ کوئی بھی اضافی ٹیکس ادا کرنے سے پہلے رابطہ کرے ہم اپنے فورم پر حکومت کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور کاروباری برادری کے حقوق اور فرائض یکساں ہیں لہٰذا حکومت صرف اپنی مرضی کے اقدامات اُٹھانے سے گریز کرے، ہم مسلمان ہیں اور قرآن پر یقین رکھتے ہیں لہٰذا ہمیں قرآنی آیات سے سبق سیکھنا چاہیے جو کہتی ہیں کہ ٹیکس صرف آمدن پر لاگو ہوتا ہے اگر آمدن نہیں تو پھر ٹیکس کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کا پہیہ معیشت پر چلتا ہے اور معیشت چلانے کیلئے بزنس کمیونٹی کا کردار صف اول میں ہوتا ہے۔ اگر آپ نے صف اول کے سپاہیوں کو کمزور کر دیا تو ملک شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔ اس پر حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اور بزنس کمیونٹی کو سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے نئی پالیسی لانی چاہیے جیسے بیرون ممالک میں بزنس کمیونٹی کو سہولیات دی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی حکومت کو ایسی سہولیات دینی چاہیں اگر ہمیں ترقی پذیر ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شہر اقبال کے صنعت کار کوئی بھی اضافی ٹیکس دینے سے پہلے چیمبر سے رابطہ کریں ۔ اور ان کی صلاح کے لئے میں نے چیمبر میں کائونٹر لگا دیا ہے ۔چیمبر آ ف کامرس کی خدمات بزنس کمیونٹی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ بزنس مینوں کااربوں روپیہ ڈیوٹی ٹیکس اورربیٹ کی مد میں پھنس جاتا ہے اور اگر وہ وقت پر بزنس مینوں کو نہ ملے تو معیشت کا پیہیہ جام ہو جا تا ہے ۔ اس پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ ساتھ عوام پر ڈروان اٹیک کے مترادف ہے۔