بھتہ خوری میں مدرسوں کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں: آر پی او پنڈی

راولپنڈی (اسرار احمد / دی نیشن رپورٹ) ریجنل پولیس آفیسر عمر اختر حیات لالیکا نے کہا ہے کہ پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکار بھرپور طریقے سے اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا کوئی مدرسہ یا اسکے طلبہ بھتہ خوری کا شکار ہونیوالوں اور تحریک طالبان یا قبائلی علاقوں میں سرگرم دوسرے بھتہ خور گروپوں کے درمیان واسطہ کار کے فرائض تو سرانجام نہیں دے رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی مدرسہ اسطرح کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اسکے خلاف سخت ایکشن لیا جائیگا۔ اب تک پولیس کے پاس کسی بھی مدرسہ کے بھتہ خوری میں براہ راست ملوث ہونے یا ٹی ٹی پی اور بھتہ خوری کا شکار ہونیوالوں کے درمیان واسطہ کار بننے کی کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ تاہم کچھ خفیہ رپورٹوں کے مطابق مدارس میں ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں لیکن اس حوالے سے ابھی مجموعی اور تفصیلی رپورٹ منظرعام پر آنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر اے بازار کے خودکش حملے میں شاہد اللہ شاہد کے مبینہ ملوث ہونے کے بعد پویس ان کو گرفتار کریگی۔ دوسری طرف سپیشل برانچ راولپنڈی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اس میڈیا رپورٹ پر سخت حیران ہوئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی کی سپیشل برانچ ایک رپورٹ تیار کررہی ہے جس میں  20 مدارس کے تحریک طالبان کے ساتھ مبینہ رابطوں کی بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل برانچ اس حوالے سے کوئی رپورٹ تیار نہیں کررہی۔ ملک کی ایک اور مرکزی خفیہ ایجنسی کے اہلکار نے بتایا کہ بھتہ خوری کے کیسز میں کسی بھی مدرسے کے ملوث ہونے کا ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ وفاق المدارس راولپنڈی برانچ کے انچارج مفتی عبدالرحمن نے بھی مدارس کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسترد کردیا۔ انکا کہنا تھا کہ مدارس اپنے طلبہ کو بندوق اٹھانے کی ترغیب دینے کے بجائے اسلامی تعلیمات سے آشنا کررہے ہیں۔ مدرسوں کے طلبہ کے بھتہ خوری میں کردار کے سوال پر انہوں نے کہا یہ سراسر جھوٹ ہے، میں حکومت اور سکیورٹی اداروں کو چیلنج کرتا ہوں کہ ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔