عیدا الفطر کی آمد ‘ اہم شاہراہوں ‘ چوراہوں ‘ سگنلز پر گداگر قابض‘ شہریوں کو خریداری میں مشکلات کا سامنا

لاہور (خبرنگار) عیدالفطر میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور ملک بھر سے آنیوالے پیشہ ور گداگروں نے شہریوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ شہر کی مارکیٹوں، اہم چوراہوں، ٹریفک سگنلز پر انکا قبضہ ہوچکاہے جبکہ سڑکوں پر پیدل چلنا بھی ان گداگروں نے مشکل بنا دیا ہے۔ گداگر اس قدر ڈھیٹ ہیں کہ مہنگائی، بیروزگاری سے تنگ لوگ ان کے آگے ہاتھ تک جوڑتے ہیں مگر یہ اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک کسی کی جیب سے کچھ نہ کچھ نکلوا نہ لیں اور ایک گداگر کوکچھ دیتے ہی اسکے دیگر ساتھی جمع ہوجاتے ہیں اور پھر بھیک دینے والے کی زندگی اس قدر اجیرن کردیتے ہیں کہ اسے مجبوراً جان چھڑانے کیلئے بھاگنا پڑتا ہے۔ ٹریفک سگنلز پر خصوصاً عمر رسیدہ مرد عورتیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھائے نوجوان عورتیں ہر گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹا کر بھیگ مانگتی ہیں مگر پولیس اہلکار خصوصاً ٹریفک پولیس انکا نوٹس لینے تیار نہیں ہے۔ گداگری جرم ہے مگر پولیس کو شکایت کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ عید کا موقع ہے کیا کرسکتے ہیں۔ بچے ”دکھا“ کر بھیک والی یہ عورتیں دن بھر چوراہوں پر بھیک مانگتی ہیں اور شام کو یہ قمقموں سے جگمگاتے بازاروں کا رخ کرتی ہیں جہاں خریداروں خصوصاً خواتین کا اس وقت تک پیچھا کرتی ہیں جب تک انکی جیب سے رقم نہیں نکلوالیتیں۔ بھکاریوں نے بھیک مانگنے کیلئے ایک نیا راستہ بھی تلاش کیا ہے اور وہ ہر شخص کو کہتے ہیں کہ چونکہ صاحب استطاعت ہیں لہٰذا وہ اپنی زکوٰة میں سے انکو حصہ دے حالانکہ زکوٰة ایسے افراد کو دینے کا حکم ہے جن کو آپ جانتے ہیں اور آپکو علم ہے کہ وہ مشکل میں ہیں۔ بھکاریوں میں ”بیماروں“ کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ ”بیمار“مرد اور عورتیں ہاتھ میں ڈاکٹروں کے نسخے یا دوائیوں کی شیشیاں ہاتھ میں لئے بھیک مانگتے ہیں۔ بھکاریوں کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے نہیں ہے اور یہ کسی دوردراز کے علاقے سے بھیک مانگنے کیلئے یہاں پہنچے ہیں۔