سید صلاح الدین کی المرکز الاسلامی آمد

سید صلاح الدین کی المرکز الاسلامی آمد

احمد کمال نظامی
سید صلاح الدین متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ اور ممتاز حریت پسند کشمیری رہنما جب بھی محاذ جنگ سے وقت نکال کر پاکستان آتے ہیں تو وہ فیصل آباد کا دورہ ضرور کرتے ہیں کیونکہ فیصل آباد میں ان حریت پسند نوجوانوں کی قبریں ہیں جنہوں نے کشمیریوں کے حق کے لئے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان شہداء کشمیر کے لہو کی مہک سے کشمیر میں جنگ آزادی کے متوالے آج بھی پاکستان کیلئے فلک شگاف نعرے لگا رہے ہیں۔ سید صلاح الدین نے فیصل آباد المرکز الاسلامی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی بربریت اور تمام تر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے باوجود کشمیری حریت پسند پاکستانی پرچم لہرا کر عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں کو جو پیغام دے رہے ہیں اس پر اقوام عالم کو اب آنکھیں کھول لینی چاہیے۔ پاکستان کی موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت کشمیر کے معاملہ میں یکسو ہے۔ اقوام متحدہ میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کراتے ہوئے کشمیریوں کو حق خودارادیت لے کر دے۔ سید صلاح الدین نے کہا کہ متحدہ جہاد کونسل کو دہشت گرد قرار دلوانے کے لئے بھارت کی مودی سرکار کا یو این او جانا ناکامی کا اعتراف ہے۔ سید صلاح الدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے مخالف نہیں ہیں لیکن مذاکرات کے نام پر جہاد کشمیر کو سبوتاژ نہیں کرنے دیں گے کیونکہ مودی سرکار کی یہی پالیسی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب وہ وقت قریب تر ہے جب کشمیری بھارت سے آزادی حاصل کر لیں گے۔ سید صلاح الدین سربراہ متحدہ جہاد کونسل نے جہاں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یکسوئی کی بات کی وہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت سے تجارت اور غیرمشروط دوستی کا دم بھرنے والے شہداء کشمیر کے مجرم ہیں۔ سید صلاح الدین نے باؤنڈری لائن پر بھارت کی طرف سے دیوار برہمن تعمیر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوان اس دیوار برہمن تعمیر کرنے کے خواب کو چکناچور کر دیں گے۔ بھارت میں ان دنوں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیر کی آزادی کے لئے مظاہرے دن بدن زور پکڑ رہے ہیں۔ حریت پسند جس طرح بے خوف ہو کراپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامے دکھائی دیتے ہیں اس سے ان کے جذبہ آزادی اور بھارت سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے ۔ جب سے مودی سرکار برسراقتدار آئی ہے بھارت کی طرف سے تواتر کے ساتھ باؤنڈری لائن کی خلاف ورزی جاری ہے اور بھارت ایسی خلاف ورزیوں سے جنگی ماحول پیدا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن پاکستان امن پسند ملک ہونے کے ناطے بھارت کی اس اشتعال انگیزی کو خاطر میں نہیں لا رہا ہے۔ سید صلاح الدین نے بھارتی آبی جارحیت کا بھی اپنی پریس کانفرنس میں ذکر کیا ہے مسئلہ کشمیر گذشتہ 68برسوں سے اسی شدت کے ساتھ اہمیت کا حامل ہے جو قیام پاکستان کے بعد تھی جب آزادی کے سپاہی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے والے تھے اور بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو بھاگ کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جا پہنچے۔ جنہوں نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی قراردادیں پاس کروائیں مگر یہ عالمی ادارہ آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کروا سکا۔ اگر ان قراردادوں پر عملدرآمد ہو جاتا تو کشمیری مسلمانوں کو بھارت سے کب کی آزادی حاصل ہو چکی ہوتی ۔
دنیا کی سپرپاور چاہے امریکہ ہو یا روس وہ سلامتی کونسل کی کسی ایسی قرارداد پر عمل درآمد نہیں کراتی جس سے مسلمانوں کو آزادی حاصل ہو رہی ہو ۔ جبکہ انڈونیشیا میں تو فوری قرارداد پر عمل کراتے ہوئے انڈونیشیا کو بھی تقسیم کرا دیا گیا اور اور ایک نئی مسیحی مملکت بھی وجود میں آ گئی۔ لہٰذا سلامتی کونسل سے یہ امید رکھنا کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل کرائے گی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام عالم اسلام متحد ہو کر آواز بلند نہیں کرتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہے اور اس پر ایک طویل عرصہ سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔ بدقسمتی سے ایک طبقہ پاکستان میں ایسا بھی پیدا ہو گیا ہے جو اپنے آپ کو غیرجانبدار کہلاتا ہے حالانکہ کشمیر کے حوالہ سے کوئی غیرجانبداری کا اگر اظہار کرتا ہے تو وہ کشمیری حریت پسندوں اور ان کی قربانیوں کی نفی کرتا ہے۔ کوئی پاکستانی کشمیر کے حوالہ سے غیرجانبدار ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ بھارت نے قائد کے اس فرمان کے برسوں بعد کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا شروع کیا اور اس اٹوٹ انگ کا جواب کشمیری نوجوان مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرا کر دے رہے ہیں۔ بھارت کل بھی پاکستان دشمن تھا اور آج بھی ہے اور کوئی موقع ایسا ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے۔ سلامتی کونسل میں بھارت کے جانے کا مقصد اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ کشمیریو ںکو حق خودارادیت تو کیا دیتا ،اس طرح اس کی مشکل ٹل گئی ۔کیونکہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ امریکی سپرپاور اس کی پشت پر ہے اور اس کے ہاتھ میں ہے اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ امریکہ غیرجانبدار نہیں بلکہ بھارت کا ہمنوا ہے اور بھارت کنٹرول لائن پر جو دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اس کی پشت پر بھی امریکی فکر کام کر رہی ہے ۔ کشمیر میں یہ دیوار برہمن کشمیری عوام کبھی تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دیوار برلن آج کوئی وجود نہیں رکھتی۔ بھارت جو پاکستان کو مصائب اور مشکلات کے شکنجے میں پے در پے کسنے پر کمربستہ ہے اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کے بعد بھارتی وزیردفاع کا بیان پوری عالمی برادری کے لئے ایک چیلنج کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمارے وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اس کا بھرپور جواب تو دے دیا ہے لیکن سید صلاح الدین جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے حکمرانوں کو ان کی آواز بھی سننی چاہیے اور مسئلہ کشمیر پر ان سے مشاورت کرنی چاہیے ۔کیونکہ وہ بھی ایک فریق ہیں اور ایک عرصہ سے کشمیر کی آزادی کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور ان کی جہادی سرگرمیاں مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے سے صاف عیاں ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ایک طاقت ہیں جو پوری جرأت سے بھارتی افواج کو للکارتے ہیں اور ان کی للکار اب پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔