بری امام کمپلیکس کی تعمیر پر کروڑوں کا گھپلا، سینٹ قائمہ کمیٹی میں انکشاف


اسلام آباد (آن لائن) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وفاقی دارالحکومت میں بنائی جانیوالی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے طریقہ کار اور بری امام اسلام آباد کے تعمیراتی کاموں پرعدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے سی ڈی اے کے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اسلام آٰباد کاکہناتھا کہ وفاقی دارالحکومت میں 16مساجد تنازعات کاشکار ہیںجن میں سے دو مساجد سنی شیعہ تنازعے کے باعث بندکرنے سمیت آٹھ مساجد پر محکمہ اوقاف کے غیرمتعلقہ خطیبوںکاغیرقانونی قبضہ ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایاگیا کہ بری امام کمپلیکس اسلام آباد کی تیاری کے لیے متعلقہ ٹھیکیدار نے پانچ سالوں کے دوران ساڑھے پانچ کروڑ روپے کا نقصان کیا۔ اسلام آباد میں مساجد اور امام بارگاہوں کی مجموعی تعداد 830 ہے جن میں سے محکمہ اوقاف کے کنٹرول میں 89 مساجد اور امام بارگاہ ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ اسلام آباد میں محکمہ اوقاف میں مساجد کی منظوری مسلک کی طرز پر دیتا ہے جس کے باعث 89 مساجد میں سے چالیس بریلویوں، 44دیوبندی دو اہل حدیث اورتین اہل تشیع کو دی گئی ہیں۔