منتقلی کا عمل مکمل

منتقلی کا عمل مکمل

راجہ عابدپرویز/اسلام آباد
abidrajput1@gmail.com
بلوچستان کے بعد خیبر پی کے میں بھی بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے،جس میں پاکستان تحریک انصاف نے سب سے زیادہ نشتیں حاصل کرکے اپنی برتری ثابت کردی ہے، پی ٹی آئی کے بعد آزاد امیدواروںنے سب سے زیادہ نشتیں حاصل کی ہیں، جے یو آئی ،اے این پی،جماعت اسلامی،عوامی نیشنل عوامی پارٹی مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلزپارٹی اور قومی وطن پارٹی نے بھی نمایاں نشستیں حاصل کی ہیں۔کے پی کے میں پولنگ کے موقع پر متعددپر تشدد واقعات بھی رونماء ہوئے ہیںجوکہ ابھی تک جاری ہیں،مگر الیکشن کمیشن نے انتخابات کو اطمینان بخش قرار دے دیا ہے، اور دھاندلی اور تشدد کے واقعات کے مرتکب ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔خیبر پی کے کے بلدیاتی انتخابات کے لئے 7کروڑ بیلٹ پیپر اسلام آباد اور لاہور کی پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن سے چھاپے گئے تھے،امن امان کی صورتحال کے لئے 80ہزار پولیس اہلکاروں اور پاک آرمی کی 35کمپنیاں پولنگ کے دوران تعینات کی گئی تھیں۔مگر اس کے باوجود صوبے کی حکمران جماعت سمیت دیگر جماعتوں نے نہ صرف بلدیاتی انتخابات کے انتظامات پر انگلی اٹھائی ہے بلکہ دھاندلی کی بھی شکایات کی ہیں۔اور اس کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کی ہے۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے پولنگ کے دوران امن وامان کی خراب صورتحال کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کرتے ہوئے خود کو بے بس قرار دیا۔مگر الیکشن کمیشن نے صوبے میں امن وامان کی تمام تر ذمہ داری صوبائی انتظامیہ پر ڈالتے ہوئے جواب طلبی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔دوسری طرف سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی اور صوبائی انتخابات کے مقابلے میں بلدیاتی انتخابات میں تشدد کے زیادہ واقعات رونماء ہونا کوئی ان ہونی نہیں، کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں ہزاروں امیدوار مد مقابل ہوتے ہیں اور ان کی دلچسپی کا لیول بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں لڑائی جھگڑے زیادہ رونماء ہوتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں تشددکے واقعات کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں متوقع بلدیاتی انتخابات کے موقع پرخدشہ ہے کہ کئی گنا زیادہ  تشدد اور لڑائی جھگڑوں کے واقعات رونماء ہونگے ، پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے اور یہاں لوگوں کے رویے بھی کچھ مختلف ہیں۔لیکن اس بار الیکشن کمیشن کی طرف سے ضابطہ اخلاق کی پابندی کے حوالے سے 11سے زائد سیاسی وانتظامی شخصیات کو نوٹسسز جاری کیے ہیں،اور الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے ہر قسم کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پر دھاندلی اور دیگر واقعات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی اب پہلے سے زیادہ ذمہ داری ہے کہ متنازعہ حلقوں کے بارے میں شکایات کے بارے میں انصاف کے تقاضوں کے مطابق جلد فیصلے کرے۔خیبرپی کے میں چوراسی ہزار چار سو بیس امیدوار مدمقابل تھے جبکہ صوبے میں ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ اکتالیس لاکھ سے زائد ہے ،الیکشن کمیشن کو جہاں دیگر چیلنجزکا سامنا تھا وہاں خواتین ووٹرز کو انتخابی عمل میں شامل کرنے جیسا مشکل ترین کام  بھی الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں میں شامل تھا،مگر شائید وہ اس میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکا،اس کی وجہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جہاں ناکافی انتظامات تھے وہاں صوبے کا کلچر بھی رکاوٹ تھا۔اس کے باوجود خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے جیسی متعدد شکایات پر الیکشن کمیشن نے سخت اقدامات اٹھائے اور صوبائی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنے اور خواتین کو ووٹ سے روکنے کے معاہدوں پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی ۔صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن نے  2858پولنگ اسٹیشنوں  کو انتہائی حساس جبکہ 4071کو حساس قراردیا تھا،صوبے کے 24اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لئے 11154پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے اورصوبے کو2835دیہاتی جبکہ 504شہری یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں حکومتی مداخلت کے تدارک کے لئے بھی متعدد اقدامات اٹھائے اور صوبائی حکومت کی طرف سے  بلدیاتی انتخابات کے نتائج جمع کرنے کے لئے قائم کیا جانے والاکنٹرول روم  فل الفور ختم کرنے کا حکم دیا کیونکہ صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر اور الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج جمع کرنے کے لئے پہلے ہی کنٹرول روم قائم کردیے گے تھے ،اسی طرح ضلعی حکومتوں نے بھی مختلف اقدامات اٹھائے ۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر وڈپٹی کمشنر ہنگو نے الیکشن کمیشن کو یقین دلایا تھاکہ ضلع میں خواتین ووٹرز بغیرکسی رکاوٹ کے اپنی ووٹ کاسٹ کرنے میں آزاد ہونگی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں انہوںنے کہا کہ انہیں خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے کے حوالے سے کوئی شکائت نہیں ملی جبکہ ضلعی انتظامیہ اس قسم کے پلانز پرنظررکھے ہوئے ہے۔انتظامیہ نے تمام افسران اورعملہ کوہدایت کردی ہے کہ وہ خواتین کو ووٹ سے روکنے جیسے اقدامات کے خلاف فوری ایکشن لیں۔اس سلسلے میں ہنگو کے عمائدین نے الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کرا رکھی ہے کہ ضلع کی خواتین اپنے اپنے امیدواروں کو اپنی مرضی سے ووٹ دینے میں آزاد ہوں گی۔خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے کے حوالے سے صرف ایک تحریری معاہدہ سامنے آیا،جوکہ نوشہرہ کی یونین کونسل بالو میں کیا گیا،اس کی اطلاع ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر وڈپٹی کمشنر نوشہرہ نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر دی،جس کا الیکشن کمیشن نے سخت نوٹس لیااور صوبائی سیکرٹری امجد علی خان کوہدایت کی ہے کہ وہ معاملہ کا خود جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ خواتین بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں۔ان تمام شکایات کے باوجود یہ امرقابل اطمینان ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہوگیا اوراب اختیارات گراس روٹ لیول تک منتقل ہو گئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بلدیاتی نظام کی افادیت سب کے سامنے آشکار ہوچکی ہے اور گزشتہ ادوار میں عوام اس سے مستفید ہوچکے ہیں۔بلوچستان اور خیبرپی کے میں بلدیاتی انتخابات کے مرحلے مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کو جو تجربات ہوئے ہیں،امید ہے کہ ان سے ضرور استفادہ کیا جائے گا اورپنجاب ، سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانے کے لئے مزید بہتر اقدامات کیے جائیں گے۔