شعبان المعظم اور شب برات کی فضیلت

علامہ منیر احمد یوسفی

شعبان المعظم اِسلامی کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ ہے جو رجب المرجب اور رمضان المبارک کے درمیان آتا ہے۔ حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ غنیة الطالبینمیں شعبان المعظم کے بیان میں اِرشاد فرماتے ہیں : ”دن تو تین ہیں ایک کل جو گزر گیا، دوسرا آج جو کام کرنے کا دن ہے اور تیسرا کل آنے والا اور یہ اُمید کا دن ہے۔“ پس معلوم نہیں کہ کل آئندہ کو سلامت رہے یا نہ رہے‘ اِس لئے کہ کل کا دن گذشتہ نصیحت و عبرت کا دن ہے اور آج کا دن غنیمت ہے اور کل آئندہ کا دن پُرخطر ہے۔ آیا کل پہنچے یا نہ پہنچے۔ اِسی طرح مہینے تین ہیں۔ رجب المرجب ، شعبان المعظم اور رمضان المبارک ”رجب (المرجب) تو گذر گیا اور پھر نہ آئے گا اور رمضان (المبارک) کا اِنتظار کر، معلوم نہیں اِس کے آنے تک زندہ رہے یا نہ رہے اور شعبان (المعظم) اِن دونوں کے وسط میں ہے پس اِس مہینے میں اطاعت و عبادت کو غنیمت سمجھو۔“
شعبان المعظم شریف کے بارے میں احادیث مبارکہ میں تفصیل ملتی ہے۔ حضرت علامہ بدر الدین عینی فرماتے ہیں ”شعبان شعب سے مشتق ہے اور یہ اجتماع کے معنیٰ میں ہے چونکہ اِس مہینے میں رمضان المبارک کی طرح خیر کثیر کا اجتماع ہوتا ہے۔ لہٰذا اِسے شعبان (المعظم) کہا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ لوگ اِدھر اُدھر متفرق ہو جانے کے بعد اِس مہینے میں جمع ہوتے تھے۔ بنا بریں یہ مہینہ شعبان کہلاتا ہے۔
 یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور برکتیں نازل ہوتی ہیں اور خطائیں معاف کی جاتی ہیں اور گناہوں کا کفارہ کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد پر کثرت سے دُرود شریف بھیجا جاتا ہے جو تمام مخلوقات میں سے بہترین ہیں۔ پس ہر عقل مند مسلمان کو چاہیے کہ اِس مہینے میں غافل نہ ہو بلکہ اِس مہینے میں واسطے ماہِ رمضان المبارک کے استقبال کے مستعد و آمادہ ہو جائے اور اپنے گناہوں سے توبہ کی فکر کرے ۔ اُم المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں، میں نے رسولِ کریم کو فرماتے ہوئے سُنا : اللہ تعالیٰ چار راتوں میں نیکیوں کے دروازے کھول دیتا ہے -1 شب عید الاضحی -2 شب عید الفطر -3 شب عرفہ اور -4 شب وسطِ شعبان المعظم کہ اس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کی عمریں اور رزق لکھتا ہے اور اِس رات میں حاجیانِ خانہ کعبہ کا شمار لکھتا ہے۔ (غنیة الطالبین مترجم ص 263‘ درمنثور جلد 7 ص 402)
”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیلؑ شعبان (المعظم) کی پندرہویں رات کو میرے پاس حاضر ہوئے اور مجھے عرض کیا: یا محمد آسمان کی طرف اپنا سر اُٹھائیں۔ آپ فرماتے ہیں‘ میں نے حضرت جبرائیلؑ سے کہا یہ کیسی رات ہے؟ عرض کیا یہ ایک رات ہے جس میں اللہ (تعالیٰ) رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتا ہے۔ اللہ (تعالیٰ) اُن تمام لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے جو اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے مگر ”ساحر، کاہن، شراب خور، سود خور اور زانی“ کو نہیں بخشتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کریں۔
پھر جب رات کا چوتھائی حصہ گزرا تو (حضرت) جبرائیلؑ پھر نازل ہوئے اور عرض کیا یا محمد اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھائیے، آپ نے اپنا سر اُٹھایا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دئیے گئے اور ہردروازے پر ایک فرشتہ ندا کرتا ہے ، آیا ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا کہ وہ بخشا دیاجائے؟آپ فرماتے ہیں، میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا یہ دروازے کب تک کھلے رہیں گے؟ تو جبرائیلؑ نے عرض کیا: اوّل شب سے صبح کے طلوع ہونے تک اور پھر عرض کیا یا محمد اِس رات اللہ (تعالیٰ) دوزخ کی آگ سے بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر اپنے بندوں کو آزادی عطا فرماتا ہے۔ (غنیة الطالبین ص 364)
”حضرت عکرمہؓ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے فِی±ھَا کُلُّ اَم±رٍ حَکِی±مٍ (یعنی اِس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام) کی یہ تفسیر کی ہے کہ یہ وسط شعبان(المعظم) کی رات ہے، ربِّ کائنات تمام سال کے کاموں کی تدبیر فرماتا ہے اور زندہ لوگ مرنے والوں سے علیٰحدہ کئے جاتے ہیں۔ اِس رات میں سال بھر کے رزق ، موت و زندگی ، عزّت و ذلت‘ غرض تمام اِنتظامی امور لوحِ محفوظ سے فرشتوں کے صحیفوں میں نقل کر کے ہر صحیفہ اُس محکمہ کے فرشتے کو دے دیا جاتا ہے ،جیسے ملک الموت کو تمام مرنے والوں کی فہرست۔ (درمنثور، تفسیر مظہری)امیر المومنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں:”اللہ (تعالیٰ) ہر مومن کی بخشش فرما دیتا ہے، سوائے والدین کے نافرمان‘ بے ادب اور ذاتی دشمنی رکھنے والے کے ۔“ (الجامع لشعب الایمان للبیہقی) ۔ چنانچہ اپنی امت کیلئے رسول اللہ کا ارشاد ہے: ”جب شعبان (المعظم) کے مہینے کی پندرہویں شب ہو تو اُس رات کو قیام کرو ، عبادت کرو اور اُس کے دن میں روزہ رکھو اِس لئے کہ اِس رات اللہ جل شانہ غروبِ آفتاب سے آسمان دنیا پر نزولِ اَجلال فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ طلوعِ فجر ہو جاتی ہے“ (ابن ماجہ ، درمنثور)