خیبر پی کے : بلدیاتی انتخابات خونریزی اور دھاندلی کی لپیٹ میں

خیبر پی کے : بلدیاتی انتخابات خونریزی اور دھاندلی کی لپیٹ میں

ایم ریاض
ہنگامہ آرائی ، چھینا جھپٹی، بدانتظامی اور مارا ماری میں خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کا عمل ہفتہ کے روز 30 مئی کو پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ یہ نہ صرف صوبہ بلکہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بلدیاتی عمل تھا جس میں صوبہ میں رائج نئے بلدیاتی نظام کے تحت 24 اضلاع میں بیک وقت مختلف سطحوں کے 42 ہزار 8 سو52 بلدیاتی ارکان کا انتخاب ہونا تھا جس کیلئے مجموعی طور پر 90 ہزار 4 سو 64 امیدوارمیدان میں تھے۔ ان میں ضلع کونسلروں کی 978 نشستوں کیلئے امیدواروں کی تعداد 5 ہزار 480 تھی، تحصیل کونسلروں کی 978 نشستوں پر 5 ہزار 970 امیدوارآپس میں پنجہ آزمائی کر رہے تھے۔ ویلج کونسلروں اور نیبر ہوڈ کونسلروں میں جنرل کونسلروں کی 23 ہزار 111نشستوں کیلئے امیدواروں کی تعداد 39 ہزار 79 تھی، ان کونسلروں میں خواتین کیلئے 6 ہزار 678 نشستوں کیلئے7 ہزار 681 خواتین کے مابین مقابلہ تھا نچلی سطح کے ان بلدیاتی اداروں میں 3 ہزار 339 مزدورکسان نشستوں کیلئے 15ہزار 700 امیدواراور نوجوانوں کیلئے 3 ہزار 339 نشستوں کیلئے 14ہزار 224امیدوار انتخاب لڑرہے تھے مجموعی طور پر 1کروڑ 30لاکھ سے زائد ووٹروں نے اس انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا جن کیلئے 11ہزار 211پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ صوبہ میں پاکستان تحریک انصاف کی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ (خصوصا مرکزی، جنوبی اورمغربی خیبرپختونخوا) کی بڑی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علماء اسلام (ف) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف اضلاع میںسہ فریقی اتحادقائم کیاجبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)،آفتاب شیر پائوکی قومی وطن پارٹی اور دیگر علاقائی گروپوںکے علاوہ صوبائی حکومت کی اتحادی جماعت اسلامی بھی ان انتخابات میں پی ٹی آئی کے مدمقابل تھی۔صوبائی حکومت کی جانب سے پرامن فضاء میںآزادانہ، منصفانہ اورشفاف بلدیاتی انتخابات کے انعقادکے عزائم اور امن و امان سے متعلق صوبائی اداروںکے انتظامات کے اعلانات کے برعکس ہفتہ کے روز پولنگ کا آغاز صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ کے طول وعرض میں پولنگ سٹیشنوںکے اندر اور باہر امیدواروںکے قائم کردہ پولنگ کیمپس میںہنگامہ آرائی، توڑپھوڑ، مارپیٹ اورفائرنگ کے واقعات سے ہواجس میںامیدواروںکے حامی اورمختلف سیاسی جماعتوںکے کارکنوںکے آپس میںاور پولنگ سٹاف کے ساتھ ہاتھا پائی کے واقعات ہوتے رہے پشاور سمیت بہت سارے مقامات پر امیدوار اور ان کے حامی بیلٹ باکس اٹھاکر لے بھاگے یا وہیں پر توڑ پھوڑ ڈالامتعدد مقامات پر پولنگ عملہ یا وہاں تعینات دیگر اہلکاروںکی جانب سے امیدواروںکے حق میںٹھپے لگانے کی شکایات موصول ہوتی رہیںدھاندلی کاایک اہم ذریعہ اپنے مدمقابل امیدوارکے مضبوط پوزیشن والے پولنگ سٹیشن پرہنگامہ آرائی کرکے وہاںپولنگ بندکراناٹھہرالیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پرامن وامان پرماموراداروںخصوصاپولیس اہلکاروںکی جانب سے مطلوبہ ردعمل دیکھنے میںنہیںآیاجس کی وجہ سے ہنگامہ آرائی کرنے والوںکے حوصلے اوربڑھ گئے جس سے نہ صرف دن بھرپولنگ کے دوران بلکہ اس کے بعدووٹوںکی گنتی اورغیرسرکاری نتائج سامنے آنے پربھی مارپیٹ کاسلسلہ جاری رہایوںیہ صوبہ کی تاریخ کے خونی بلدیاتی انتخابات قرارپائے دن بھرچارسدہ اورنوشہرہ سمیت مختلف مقامات پر11سے زائدافرادلقمہ اجل بن چکے تھے جبکہ رات گئے ضلع نوشہرہ کے علاقہ پبی میںپی ٹی آئی کے امیدوارکی کامیابی پران کے حامیوںکی ریلی کے دوران فائرنگ کے نتیجہ میںپی ٹی آئی کاایک نوجوان کارکن حبیب اللہ چل بسافائرنگ کایہ واقعہ عوامی نیشنل پارٹی کے دفترکے قریب رونماہواجہاںمبینہ طورپراے این پی کے سیکرٹری جنرل اورسابق صوبائی وزیرمیاںافتخارحسین موجودتھے واضح رہے پبی میاںافتخارحسین کاآبائی قصبہ ہے فائرنگ کے اس واقعہ کے بعدمقتول حبیب اللہ کے والد کی دعویداری پرپبی پولیس نے میاںافتخارحسین کوگرفتارکرکے ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ109کے تحت مقدمہ درج کردیاجس میںمقتول کے والدنے یہ دعویداری کی تھی کہ میاںافتخارحسین کے ایماء پران کے محافظ نے فائرنگ کرکے ان کے بیٹے کوموت کے گھاٹ اتاراہے میاںافتخارحسین کواگلے روزمقامی عدالت میںپیش کرکے تفتیش کیلئے انہیںایک روزہ جسمانی ریمانڈپرپولیس کے حوالہ کیاگیا۔اس پر ملک بھر میں ناپسندیدگی اور تشویش کا اظہارکیا گیا ۔ جس نے تحریک انصاف کے مرکزی سربراہ ہ عمران خان اورپی ٹی آئی کے دیگرقائدین کومدافعانہ طرزعمل پرمجبورکیاعمران خان کومیاںافتخارحسین کی دلیری کوسراہتے ہوئے یہ کہناپڑاکہ ان کے خلاف ایف آئی آرہمارے کہنے پرنہ کاٹی گئی اورنہ ہی میرے یاوزیراعلی پرویزخٹک کے کہنے پریہ ایف آئی آرختم کی جائے گی وزیراعلی پرویزخٹک نے بھی بیان جاری کیاکہ میاںافتخارحسین کے خلاف ایف آئی آرکے اندراج میںان کایاصوبائی حکومت کاکوئی عمل دخل نہیںایک روزہ جسمانی ریمانڈکی تکمیل پرمیاںافتخارحسین کوپیرکو14روزہ جوڈیشل ریمانڈپرجیل بھیج دیاگیااوراب ان کی رہائی کیلئے قانونی جنگ لڑنے کیلئے ممتازقانون دان اوراے این پی کے رہنمالطیف آفریدی کی سربراہی میںوکلاء کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے ہفتہ کے روزبلدیاتی انتخابات کی پولنگ سے تشددکے جن واقعات کاآغازہوااتوارکی شب ٹانک میںکونسلرکی نشست پرکامیاب ہونے والے آزادامیدوارولی خان کے حامیوںپرفائرنگ کے واقعہ میں 10 افرادجاںبحق ہوئے جبکہ کوہاٹ اورنوشہرہ میں2,2افرادلقمہ اجل بنے یوںمجموعی طورپریہ انتخابات 28سے زائدافرادکی جانیں لے چکاہے جبکہ انتخابی نتائج کے حوالہ سے صوبہ بھرکے مختلف مقامات پر امیدواروں اور سیاسی جماعتوںکی جانب سے صوبائی حکومت اورخصوصاصوبہ کی حکمران پاکستان تحریک انصاف پردھاندلی اورانتخابات میںسرکاری مشینری اوروسائل کے الزامات کی بھرمارہے غیرسرکاری اورغیرحتمی نتائج کے مطابق ضلع اورتحصیل کونسلوںکے انتخابات جوجماعتی بنیادوںپرمنعقدکئے گئے میںاب تک پاکستان تحریک انصاف کوبرتری حاصل ہے لیکن دھاندلی کے حوالہ سے پاکستان تحریک انصاف اوراس کی صوبائی حکومت پرجس وسیع پیمانے پرالزامات لگائے جارہے ہیںاس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف صوبہ خیبرپختونخوامیںبلدیاتی انتخابات توجیت گئی ہے لیکن اس کی سیاست ہارگئی ہے اس صورتحال پر صوبہ کے چیف ایگزیکٹیو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا یہ بیان سامنے آیا کہ پولنگ سٹیشنوں پر بدنظمی اور ہاتھا پائی کے واقعات کا ذمہ دار الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتیں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی اس دلیل کو مسترد کرچکی ہیں کہ پولنگ کے روز ہونے والی ہنگامہ آرائی اور امن و امان کی خرابی کے واقعات کیلئے صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی ذمہ دار ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پولنگ سٹیشنوں کے اندر ہونے والی ہنگامہ آرائی ،توڑ پھوڑ اور چھینا جھپٹی کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میں تعطل کی بڑی وجہ پولنگ سٹیشنوں کے باہر ہونے والے جھگڑے تھے ۔ حکومت کی اتحادی جماعت اسلامی نے اتنخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔جمعیت علماء اسلام(ف)کے سربراہ مولا نا فضل الرحمن کا کہنا تھاکہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی نے دھاندلی کے تمام ریکارڈز توڑ ڈالے جے یوآئی(ف)ان دھاندلی زدہ انتخابات کوتسلیم نہیںکرتی۔ تحریک انصاف کے کارکنوںنے پولیس کے ساتھ مل کرپولنگ سٹیشنوںپردھاوابول دیااوروہاںسے بیلٹ باکس اٹھاکرلے گئے ۔اس صورتحال میںعمران خان اورتحریک انصاف کی جانب سے صوبہ کی پولیس کے غیرسیاسی ہونے کے دعووںکی قلعی کھل گئی عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے بلدیاتی انتخابات میںپی ٹی آئی کی مبینہ دھاندلی پرشدیدردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوامیںبلدیاتی انتخابات کے دوران تبدیلی کے دعویداروںنے دھاندلی اورانتقامی کاروائیوںکے نئے ریکارڈقائم کر ڈالے ۔ مسلم لیگ (ن)کے پیرصابرشاہ نے الزامات عائدکرتے ہوئے کہا کہ تحصیل غازی میں11سے زائدیونین کونسلوںمیںپی ٹی آئی کے امیدوار اپنی وعدے شکست دے کراوچھے ہتھکنڈوں پر اترآئے اورمختلف مقامات پرپولنگ سٹیشنوں خصوصاخواتین کے پولنگ سٹیشنوںپر دھاوا بول کرخواتین کوہراساںکیااوروہاںپولنگ رکوادی۔