فضل اللہ قبائلی علاقہ میں ٹھکانہ بنا کر ٹی ٹی پی کی قیادت کرینگے

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) معلوم ہوا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے نئے سربراہ مولانا فضل ا للہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ٹھکانہ بنا کر وہیں سے تنظیم کی قیادت کریں گے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس مقصد کیلئے وہ جلد شمالی وزیرستان پہنچ رہے ہیں جو ٹی ٹی پی کا عملاً ہیڈکوارٹرز ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی اداروں کے مطابق مولانا فضل ا للہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں مقیم ہیں اور انہیں افغان حکومت کی تایئد حاصل ہے۔ سوات آپریشن میں زخمی ہونے کے بعد مولانا فضل ا للہ اس علاقہ سے نکل گئے تھے۔ تنظیم کا سربراہ بنائے جانے کے ساتھ ہی یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ وہ افغانستان میں بیٹھ کر کس طرح قیادت کا ذمہ پورا کر سکیں گے اس حوالے سے تنظیم پر ان کے کنٹرول کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے۔ باور کیا جاتا ہے کہ انہی تحفظات کا تدارک کرنے اور ٹی ٹی پی پر مو¿ثر کنٹرول کیلئے انہوں نے شمالی وزیرستان منتقل ہونے کا خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا۔ خطرہ اس لئے ہے کہ شمالی وزیر ستان میں پاک فوج بھی وقتاً فوقتاً کارروائیاں کرتی رہتی ہے اور امریکہ کے ڈرون حملے آئے روز جاری رہتے ہیں۔ ایسے ہی حملوں میں بیت ا للہ محسود اور حکیم ا للہ محسود مارے جا چکے ہیں۔
فضل اللہ