بدترین لوڈشیڈنگ نے بیروزگار کردیا، گھروں میں فاقے شروع ہو گئے: محنت کش خواتین

لاہور (لیڈی رپورٹر)گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی 18گھنٹے تک جاری رہنے والی لوڈشیڈنگ پر خواتین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نگران حکمرانوں سے فوری طور پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کامطالبہ کیا ہے۔ نوائے وقت سے گفتگو میں سمن آباد کی خواتین عالیہ اور ناصرہ نے کہا کہ بدترین لوڈشیڈنگ نے جینا حرام کردیا ہے چوبرجی کی ورکنگ خاتون سدرہ عاصم اور طالبہ انعم نے کہا کہ بجلی دو گھنٹے جاتی ہے اور ایک گھنٹہ آتی ہے جس سے زندگی ہر لحاظ سے مفلوج ہو کررہ گئی ہے۔ اچھرہ کی بزرگ خاتون شاہدہ مظہر اور نعیمہ اسد نے کہا کہ بزرگ افراد ٹی وی دیکھ کر وقت گزارتے ہیں۔ الیکشن سر پر ہیں ان حالات میں ٹی وی نہ دیکھ پانے پر بہت الجھن ہوتی ہے محنت کش خواتین ثریا اور بلقیس نے کہا کہ ہمارا روزانہ کی کمائی پر انحصار ہے، کام نہ ملنے کی صورت میں بچوںکو رات کو بھوکا سونا پڑتا ہے،۔گھریلو خواتین پروین منظور اور ہاجرہ سلیمان نے کہا کہ گھروں میں کوئی کام مکمل نہیں ہوتا کپڑے دھونے لگیں تو سارادن لگ جاتا ہے، شکر کیا تھا پیپلز پارٹی کی حکومت گئی ہے مگر موجودہ حالات تو اس سے بھی بدتر ہیں۔
خواتین / لوڈشیڈنگ